Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بطور قرض رقم دینے کے بعد زکوٰۃ کی نیت کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 433-Web
Question
کوئی شخص اپنی بیماری کا علاج کرنے کے لیے رقم مانگے اور بولے کہ بعد میں واپس کر دے گا، تو اسے رقم دے دی اور دینے والے نے یہ کہا کہ واپس نہیں لوں گا تو کیا اس طرح زکوۃ ادا ہو جائے گی ؟
Answer (beginning)
کسی کو قرض دینے سے زکوۃ ادا نہیں ہوتی، ہاں اگر وہ مستحق زکوۃ ہو اور آپ نے قرض کی نیت سے نہیں، بلکہ زکوۃ کی نیت سے پیسے دیئے، تو اگرچہ قرض کہہ کر دیئے، تو بھی زکوۃ ادا ہو جائے گی، لیکن چونکہ اس نے قرض سمجھ کر پیسے لئے ہیں، تو آئندہ اگر وہ واپس کرے، تو آپ کو اسے منع کرنا ہو گا، کیونکہ آپ کو وہ پیسے واپس لینا جائز نہیں اور اگر وہ مستحق زکوۃ نہ ہو ، تو اسے زکوۃ ہی کی نیت سے دینے بلکہ زکوۃ کہہ کر دینے سے بھی زکوۃ ادا نہیں ہو گی، کیونکہ زکوۃ کو ں کے مصرف میں دینا ضروری ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.