Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فرض نمازتنہا پڑھنے والے کے ساتھ نماز میں شامل ہونے کا طریقہ
- Fatwa no.
- 430-Web
Question
دارالافتاءاہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے یہاں چھوٹی مسجد ہے اور اس طرح کی صورت حال پیش آتی رہتی ہے کہ نمازی نہیں ہوتے اور امام صاحب تنہا نماز پڑھتے ہیں۔ امام صاحب کے نماز شروع کرنے کے بعد اگر کوئی شخص آتا ہے ، تو وہ کس طرح امام صاحب کے ساتھ نماز میں شامل ہو اور اگر نمازی شامل ہو، تو پھر امام صاحب وہیں سے بقیہ قراءت اور باقی نماز کی تمام تکبیرات بلند آواز سے کہیں گے یا کیا صورت اختیار کریں گے ؟
Answer (beginning)
اگر امام صاحب اکیلے نماز پڑھ رہے ہیں اور ایک مقتدی آجائے، تو اسے چاہئے کہ امام صاحب کے ساتھ ان کی سیدھی جانب اس طرح کھڑ ا ہو کہ اس کا قدم امام سے آگے نہ ہو یعنی مقتدی کے ٹخنے امام کے ٹخنوں سے پیچھے ہوں، اور اس مقتدی کے شامل ہونے کے بعد امام تکبیر وغیرہ بلند آواز سے کہے اور جہری نماز ہو، تو قراءت بھی جہری کریں گے۔ صدر الشریعہ ، بدر الطریقہ ، حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ”اکیلا مقتدی مرد اگر چہ لڑکا ہو امام کی برابر دہنی جانب کھڑا ہو ، بائیں طرف یا پیچھے کھڑا ہونا مکروہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.