Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وراثت میں حصہ شریعت کے حساب سے ہوگا یا مورث کی وصیت کے حساب سے

Fatwa no.
356-Web
Issued
04 ذوالحجۃ الحرام 1443ھ / 04 جولائی 2022 ء

Question

ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں والد صاحب نے وصیت کی تھی کہ جائیداد میں ہم دونوں بھائیوں اور دونوں بہنوں کا حصہ برابر ہو گا، والد صاحب کے انتقال کے بعد بھائی کہتے ہیں کہ حصہ شریعت کے حساب سے ہو گا، جبکہ بہنوں کا کہنا کہ حصہ وصیت کے مطابق ہی ہو گا، اس صورت میں ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟

Answer (beginning)

وراثت میں شریعت کی طرف سے میت کے بیٹے بیٹیوں کا ایک مخصوص حصہ مقرر ہے اور وارث کے لئے وصیت باطل ہے۔ لہذامیت کا اس طرح وصیت کرنا کہ وراثت میں بیٹے بیٹیوں کا برابر حصہ ہو گا، یہ وصیت شرعاً درست نہیں، بلکہ شریعت کے مطابق بیٹے کو بیٹی سے دو گنا ( ڈبل ) حصہ ملے گا۔ اولاد کے حصے کے بارے میں فرمان باری تعالیٰ ہے : لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِ الْأنْثَيَيْنِ ترجمہ کنز الایمان: بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.