Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کمیٹی کی رقم پر زکوٰۃ کا حکم؟

Fatwa no.
425-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے کمیٹی ڈالی ہو ، جس میں وہ ہر مہینے رقم دیتا ہے اور ایک مقررہ وقت پر وہ کمیٹی نکلے گی، تو جور تم کمیٹی میں جمع ہو رہی ہے ، کیا اس پر زکوۃ ہو گی ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر یہ شخص کمیٹی میں جمع کرائی گئی رقم کے علاوہ پہلے سے صاحب نصاب ہے یا پہلے سے صاحب نصاب نہیں لیکن جتنی رقم کمیٹی میں جمع کرودای ہے وہ رقم نصاب جتنی ہے یا دوسرے مال کے ساتھ مل کر نصاب تک پہنچ جاتی ہے تو نصاب پر سال پورا ہونے و دیگر شرائط کے پائے جانے کی صورت میں زکوۃ فرض ہو جائے گی اور سال بسال واجب ہوتی رہے گی۔ امام اہلسنت ، اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ سے سوال ہوا جو پیسہ بینک یا ڈاکخانے میں جمع ہو کیا اس پر زکوۃ ہوتی ہے ؟ اس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں: ” روپیہ کہیں جمع ہو کسی کے پاس امانت ہو ، مطلقاً اس پر زکوۃ واجب ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.