Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نجاست لگے کپڑوں کو دھویا،لیکن نجاست کا نشان رہ گیا،تو اس میں نماز کا حکم

Fatwa no.
408-Web

Question

اگر کسی کے کپڑوں پر نجاست لگ جائے تو اس کو پاک کر کے نماز پڑھنی ہو گی اور اگر وہ کپڑ ادھویا جائے، لیکن نشان و غیر رہ جائے، تو کیا پھر بھی کپڑا نا پاک ہو گا اور اس کپڑے میں نماز نہیں ہو گی ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر نجاست غلیظہ درہم سے زائد ہے تو کپڑوں کو پاک کر کے نماز ادا کرنا فرض ہے اگر بغیر پاک کیسے نماز پڑھی تو نماز ادا نہیں ہوگی، اگر نجاست درہم کے برابر ہے تو کپڑے کو پاک کر کے نماز ادا کرنا واجب ہے اگر بغیر پاک کیے نماز ادا کی تو نماز مکروہ تحریمی ہے اور درہم سے کم ہونے کی صورت میں کپڑے کو پاک کر کے نماز ادا کرنا سنت ہے۔ بہر حال اگر کپڑے پر سے نجاست دور کر لی اور اس کا اثر بھی دور ہو گیا لیکن محض نجاست کا دھبہ لگارہ گیا جسے ، زائل کرنا مشکل ہے تو کپڑا پاک ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.