Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس عورت پر غسل فرض ہواوراسے حیض آجائے ،تو غسل کب کرے
- Fatwa no.
- 406-Web:
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس عورت پر غسل جنابت فرض ہو اور غسل کرنے سے پہلے اسے حیض آجائے، تو اس پر حالتِ حیض میں بھی غسل جنابت کرنا فرض ہو گا یا تاخیر کر سکتی ہے ؟
Answer (beginning)
غسل جنابت فرض تھا اور اسی دوران حیض آگیا، تو اب غسل جنابت کرناضروری نہیں، چاہے تو اب نہالے یا حیض ختم ہونے پر ہی غسل کرے۔ بہار شریعت میں ہے: عورت جنب ہوئی اور ابھی غسل نہیں کیا تھا کہ حیض شروع ہو گیا، تو چاہے اب نہالے یا بعد حیض ختم ہونے کے۔ (بہار شریعت،جلد1،صفحہ325،مکتبۃالمدینہ) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat fdaruliftaahlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net Darulifta Ahlesunnat
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.