Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

گندم ادھار بیچتے وقت معین ریٹ طے نہ کرنا

Fatwa no.
343-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) خالد آج کے روز پچاس من گندم ساجد کو چھ ماہ کے ادھار پر بیچتا ہے، آج کا ریٹ 2800 روپے فی من ہے، لیکن خالد اور ساجد کے مابین یہ طے ہوا ہے کہ چھ ماہ بعد قیمت کی ادائیگی کے وقت جو ریٹ ہو گا، اسی حساب سے ساجد قیمت کی ادائیگی کرے گا۔ خرید و فروخت کے اس طریقہ کار کا کیا حکم ہے ؟ اگر نا جائز ہے ، تو اس کا جائز طریقہ کار بھی بیان کر دیجئے۔

Answer (beginning)

پوچھے گئے طریقہ کار کے مطابق گندم فروخت کرنا بیع فاسد ، ناجائز و گناہ ہے کیونکہ مذکورہ طریقہ کار میں گندم کا شمن (Price) مجہول ہے، معلوم نہیں کہ چھ ماہ بعد گندم کا ریٹ کتنا ہو گا، موجودہ ریٹ سے کم ہو یازیادہ ہو ، زیادہ ہو تو کتنازیادہ ہو ، اور یہ جہالت ایسی ہے کہ جس کی وجہ سے ثمن ادا کرتے وقت نزاع ( جھگڑا) ہو سکتا ہے، جس بیج میں مبیع یا شمن اس طرح مجہول ہوں کہ وقت تسلیم نزاع ( جھگڑا) ہو سکے، وہ بیع فاسد ہوتی ہے ، بیع فاسد کرنا، ناجائز و گناہ ہے۔ لہذا ان دونوں پر لازم ہے کہ ایسی بیج ہر گز نہ کریں، اگر کر چکے ہیں، تو اس سودے کو ختم کریں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.