Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قبر کے پاس اگر بتی جلانے کا حکم

Fatwa no.
341-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) قبر کے پاس اگر بتی لگانا کیسا جیسا کہ عموماً لوگ اپنے رشتہ داروں کی قبر پر جاتے ہیں اور اگر بتی جلاتے ہیں، کچھ دیر فاتحہ خوانی کر کے واپس آجاتے ہیں اور وہ اگر بتی وہیں جلتی رہتی ہے؟

Answer (beginning)

قبر پر اگر بتی جلانا بہر حال ممنوع ہے ، اگر قبر کے پاس قرآن پڑھنے والے موجود ہوں اور انہیں نفع پہنچانے کی غرض سے قبر سے ہٹ کر اگر بتی جلائی جائے، تو یہ جائز و مستحسن ہے اور اگر وہاں قرآن خوانی یا اور اد و ظائف کا سلسلہ نہیں محض قبر کے لیے جلاتی ہے تو یہ بھی منع ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے: " عود لوبان وغیرہ کوئی چیز نفس قبر پر رکھ کر جلانے سے احتراز چاہئے اگر چہ کسی برتن میں ہو۔۔۔ اور قریب قبر سلگا کر اگر وہاں کچھ لوگ بیٹھے ہوں نہ کوئی تالی یا ذاکر ہو بلکہ صرف قبر کے لیے جلا کر چلا آئے تو ظاہر منع ہے کہ اسراف واضاعت مال ہے۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.