Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حاملہ عورت کا انتقال ہوجائے ،تو پیٹ میں موجود بچے کے متعلق کیا حکم ہے
- Fatwa no.
- 403-Web
Question
کیا حکم ہے دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ڈیلیوری کے دوران حاملہ عورت کا انتقال ہو جائے اور بچہ اس کے پیٹ میں ہی ہو ، تو اس صورت میں بچہ کو نکالا جائے گا یا نہیں؟
Answer (beginning)
حاملہ عورت کے انتقال کی صورت میں اگر اس کے پیٹ میں بچہ حرکت کر رہا ہو تو الٹی جانب سے اس کا پیٹ کاٹ کر بچہ کو نکالا جائے گا، ہاں اگر حاملہ اور اس کے بچے دونوں کا انتقال ہو چکا ہو تو پھر ایسے ہی دفن کر دیا جائے گا۔ فتاوی قاضی خان ، الاختيار لتعليل المختار ، بحر الرائق، فتاوی اسعدیہ ، ردالمختار وغیرہ میں ہے: واللفظ للاول: وان اضطرب الولد في بطن امرأة حامل قد ماتت يشقق بطنها من الجانب الايسر یعنی اگر حاملہ عورت مر جائے اور اس کے پیٹ میں بچہ حرکت کر رہا ہو تو اس کا پیٹ الٹی جانب سے کاٹ کر بچہ کو نکال لیا جائے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.