Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا بغیر وضو کے طواف کرنا جائز ہے؟

Fatwa no.
399-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے طواف خانہ کعبہ کے کچھ چکر بغیر وضو گالئے تو کیا حکم ہے ؟ اور کفارہ لازم ہونے کی صورت میں کیا اعادہ سے کفارہ ساقط ہو جاتا ہے؟

Answer (beginning)

طوافِ کعبہ کے بعض چکر بغیر وضو لگا لئے تو کیا حکم ہے جیب ابو مصطفی محمد کفیل رضا مدنی فتوی نمبر: 399-Web تاريخ اجراء: 23 ذوالحجۃ الحرام 1443ھ / 23 جولائی 2022ء سوال دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے طواف خانہ کعبہ کے کچھ چکر بغیر وضو گالئے تو کیا حکم ہے ؟ اور کفارہ لازم ہونے کی صورت میں کیا اعادہ سے کفارہ ساقط ہو جاتا ہے؟ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ال بنا القابِ اللَّهُمَّ هِدَايَةَ الْحَقَّ وَالصَّوَابِ اگر طواف زیارت کل یا اکثر یعنی چار پھیرے بے وضو کئے تو دم واجب ہو جائے گا۔ مکہ مکرمہ میں ہوتے ہوئے ایسے طواف کا اعادہ مستحب ہے ، اعادہ کرنے پر دم ساقط ہو جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.