Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا نفلی طواف کے بعد دو رکعت پڑھنا اور سعی کرنا ضروری ہے؟

Fatwa no.
345-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) عمرہ کی ادائیگی کے بعد نفلی طواف کئے جائیں، تو کیا اس صورت میں طواف کے بعد مقام ابراہیم پر دور کعت پڑھنا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا بھی لازم ہو گا؟ یا صرف طواف ہی کرنا ہو گا؟

Answer (beginning)

نظلی طواف کے بعد دور کعت پڑھنا واجب ہے اور اس کے لیے افضل مقام، مقام ابراہیم ہے ، لیکن نظلی طواف کے بعد سعی نہیں کی جائے گی اس لیے کہ سعی صرف حج و عمرہ کے واجبات میں سے ہے ، نفلی طواف کے بعد سعی مشروع نہیں۔ علامہ ابن عابدین شامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ” و علیہ لکل اسبوع رکعتان، لباب، واطلق الاسبوع فشمل طواف الفرض والواجب والسنة والنفل “ترجمہ : اور اس پر ہر سات چکروں کے بعد دور کعت لازم ہیں ،لباب ، اور اسبوع کو مطلق رکھا تو یہ شامل ہے فرض، واجب، سنت اور نفل طواف کو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.