Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رقم ایڈوانس لے کر آرڈر پر سونے کے زیورات تیار کر کے بیچنا

Fatwa no.
389-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا سونے کا زیور اس طرح بیچ سکتے ہیں کہ پہلے قیمت وصول کر لی جائے ، بعد میں دکاندار زیور تیار کروا کر خریدار کو مقررہ وقت پر دے، اس طرح سودا کرنے کی شرعاً اجازت ہے یا نہیں ؟

Answer (beginning)

آرڈر پر سونے کے زیورات بنوانا عقد استصناع ہے اور یہ اُس وقت جائز ہو گا، جب زیور کی جنس، نوع، وصف وغیرہ کو اس طور پر بیان کر دیا جائے کہ اس میں جہالت باقی نہ رہے، یو نہی یہ بھی ضروری ہے کہ اس زیور کی ایک معین قیمت طے کی جائے۔ لہذا سونے کے زیورات کا آرڈر لیتے وقت سونے کا کریٹ، اس کا ڈیزائن ، وزن و غیرہ اس طور پر طے کریں کہ کسی قسم کی جہالت باقی نہ رہے اور اس زیور کی ایک معین قیمت بھی عقد کے وقت واضح انداز میں طے کر لیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.