Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جن نمازوں میں اتنی آواز سے قراءت کی کہ خود نہ سن سکیں ، تو ان نمازوں کا کیا حکم ہے

Fatwa no.
335-Web

Question

ہمیں اب پتا چلا ہے کہ نمازوں میں اتنی آواز سے قراءت کرنی ہے کہ خود سن لیں۔ یہ ارشاد فرمائیں کہ زندگی میں ہم نے جن نمازوں میں اتنی آواز سے قراءت نہیں کی کہ خود سن لیں تو کیا وہ نمازیں ہمیں دوبارہ پڑھنی ہوں گی ؟

Answer (beginning)

نماز میں قراءت اور دیگر اوراد کم از کم اتنی آواز میں پڑھنا ضروری ہے کہ شور و غل اور شکل سماعت نہ ہونے کی صورت میں خود اپنے کانوں تک آواز آجائے۔ اگر دل میں قراءت کی یا اتنی کم آواز میں قراءت کی کہ شور اور نقل سماعت نہ ہونے کے باوجود اپنے کانوں تک آواز نہ آئی تو اس صورت میں قراءت کا فرض ادا نہ ہو گا اور نماز نہ ہوگی، اس طرح جتنی فرض و واجب نمازیں پڑھی ہیں ان سب کو دوہر انالازم ہو گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.