Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غسل کرتے ہوئےپانی سے بھرے ڈرم میں چھینٹے پڑجانے کی صورت میں پانی کا حکم
- Fatwa no.
- 331-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہم سپلائی کا پانی استعمال کرتے ہیں، اکثر یہ ہوتا ہے کہ پانی نہیں آتا، ہم نے ایک ڈرم رکھا ہے ، اس کو بھر لیتے ہیں لیکن وہ ڈرم دو دردہ سے کم ہے۔ اب اس صورت میں اگر کوئی شخص فرض غسل کرے اور غسل کرتے ہوئے پانی کے چھینٹے ڈرم میں پڑ جائیں، تو کیا ان چھینٹوں سے پانی مستعمل یا ناپاک ہو جائے گا؟ نیز اس پانی کے مستعمل ہونے یا نہ ہونے کے متعلق معلوم نہ ہو ، تو کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
غسل کرتے ہوئے ڈرم میں جانے والی چھینٹیں بہت کم ہوتی ہیں، جبکہ ڈرم کا پانی زیادہ ہوتا ہے، لہذ اڈرم کا پانی ان چھینٹوں کی وجہ سے مستعمل نہیں ہو گا اور چونکہ وہ چھینٹیں پاک ہوتی ہیں، لہذ اڈرم کا پانی ناپاک بھی نہیں ہو گا۔ البتہ ناپاک پانی کی چھینٹیں اس میں جانے سے ڈرم کا پانی ناپاک ہو جائے گا۔ نیز جس پانی کے مستعمل ہونے کا پتا نہ ہو اسے صرف شک وو ہم کی وجہ سے مستعمل نہیں قرار دیا جاسکتا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.