Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نمازی کے دائیں ،بائیں یا پیچھے تصویر ہو،تو نماز کا کیا حکم ہوگا

Fatwa no.
323-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نمازی کے دائیں بائیں یا پیچھے تصویر ہو تو، کیا نماز مکروہ تحریمی ہو گی ؟

Answer (beginning)

تصویر پورے قد کی ہو مگر نمازی کے سامنے نہ ہو نمازی کے دائیں یا بائیں یا پیچھے ہوا گرچہ بطور تعظیم آویزاں ہو ۔ اس صورت میں تشبہ نہ ہونے کی وجہ سے کراہت تحریمی لازم نہ آئے گی ، ہاں تعظیم کے پائے جانے کی وجہ سے کراہت تنزیہی لازم آئے گی۔ سیدی اعلی حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ نے اپنے مشہور زمانہ حاشیہ جدالممتار میں یہی تحقیق فرمائی ہے۔ جدالممتار میں تصویر سے کراہت لازم ہونے سے متعلق ہے : ” ان علة كراهة التحريم في الصلاة هو التشبه بعبادة الوثن كما في الهداية والفتح وغيرهما وفي الاقتناء هو وجودها في البيت على جهة التعظيم وهو المانع للملائكة عن الدخول فيه فمقطوع الرأس او الوجه…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.