Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا جماہی کے وقت شیطان منہ میں داخل ہوتا ہے؟

Fatwa no.
152-Web
Issued
11 رمضان المبارک 1443ھ / 13 اپریل 2022 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جماہی لینے سے کیا شیطان منہ کے اندر داخل ہو جاتا ہے؟

Answer (beginning)

جماہی آئے تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لینا چاہیے کیونکہ حدیث پاک کے مطابق جب منہ کھول کر جما ہی لی جائے تو شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے ، یادر ہے شیطان کے منہ میں داخل ہونے سے مراد یہ ہے کہ منہ کھول کر جماہی لینے والے پر شیطان قدرت و غلبہ حاصل کر لیتا ہے یا پھر منہ میں شیطان کا حقیقہ داخل ہو نا مراد ہے اور شیطان منہ کے ذریعے داخل ہو کر نماز اور دیگر نیک کام بھاری کر دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” اذا تثاءب احدکم، فلیمسک بیده علی فیه، فان الشيطان يدخل “ یعنی ترجمہ: تم میں سے کسی کو جما ہی آئے تو اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے کیونکہ شیطان اندر داخل ہو جاتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.