Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
تراویح کی چاررکعت کے بعد اگرتسبیح تراویح نہ پڑھی ،وقفہ نہ کیا تو کیا حکم ہوگا؟
- Fatwa no.
- 151-Web
- Issued
- 11 رمضان المبارک 1443ھ / 13 اپریل 2022 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ چار رکعت تراویح پڑھ کر مرد حضرات تسبیح پڑھتے ہیں، مگر عور تیں تراویح پڑھتے ہوئے چار کعت پر وقفہ بھی نہیں کرتیں اور یہ تسبیح بھی چھوڑ دیتی ہیں، اس صورت میں عورتوں کے لیے کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
تروایح کی چار رکعتیں پڑھنے کے بعد اتنی دیر بیٹھنا جتنی دیر میں چار رکعت ادا کی ہیں، مستحب ہے ، فرض یا واجب نہیں، نیز اس بیٹھنے کے دوران اس بات کا اختیار ہے کہ چاہے اتنی دیر خاموش بیٹھا جائے یا تلاوت ، ذکر واذکار ، درود پاک یا تسبی و غیر ہ کا ورد کیا جائے، لہذا عورتوں کو بھی اس پر عمل کرنا چاہیے ، تاہم اگر کسی نے یہ وقفہ نہیں کیا یا تسبیح نہیں پڑھی تو ان پر کوئی پکڑ نہیں البتہ مستحب پر عمل کر کے اس ثواب کو حاصل کر نا زیادہ بہتر ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.