Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا کپڑوں میں پیشاب نکل جانے سے غسل لازم ہوتا ہے ؟

Fatwa no.
315-Web

Question

اگر پیشاب کے قطرے کپڑوں پر پڑ جائیں یا پیشاب پر کنٹرول نہ ہو اور کچھ قطرے کپڑوں میں نکل جائیں ، تو ایسی صورت میں کیا غسل واجب ہو گا؟ نیز مذکورہ صورت میں کپڑے پاک کرنے کے لئے مکمل دھونے پڑیں گے یا کپڑے کا جو حصہ ناپاک ہے صرف وہ دھونے سے کپڑے پاک ہو جائیں گے ؟

Answer (beginning)

پیشاب کرنے سے یا پیشاب کے قطرے آنے سے غسل لازم نہیں ہوتا، بلکہ پیشاب سے صرف وضو ٹوٹتا ہے۔ نیز کپڑے کے جس حصے پر قطرے لگے ہوں اس حصے کو تین مرتبہ دھوئیں اور ہر مرتبہ اتنا نچوڑیں کہ پانی ٹپکنا بند ہو جائے یا اتنا پانی بہائیں کہ ظن غالب ہو جائے کہ اب کوئی ناپا کی باقی نہ رہی ہو گی ، اس طرح کرنے سے کپڑے پاک ہو جائیں گے ، پورے کپڑے دھونا ضروری نہیں۔ اسی طرح بدن کے جس حصے پر پیشاب کے قطرے لگ جائیں، اس حصے کو دھو لینے سے وہ پاک ہو جائے گا مکمل غسل کرنا ضروری نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.