Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

آیتِ سجدہ معلوم نہ ہو تو سجدۂ تلاوت کا حکم

Fatwa no.
311-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کے سامنے آیت سجدہ تلاوت کی گئی یا اس کا ترجمہ پڑھا گیا یا اس نے خود پڑھ لیا اور اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ آیت سجدہ یا اس کا ترجمہ ہے ، تو کیا حکم ہو گا؟

Answer (beginning)

آیت سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ تلاوت واجب ہو جاتا ہے ، اگر چہ پڑھنے یاسننے والے کو معلوم نہ ہو کہ یہ آیت سجدہ ہے۔ اسی طرح آیت سجدہ کا ترجمہ پڑھنے یا سننے سے بھی سجدہ تلاوت واجب ہو جاتا ہے، البتہ اس میں اتناضر ور ہے کہ اگر اسے معلوم نہ ہو تو بتادیا گیا ہو کہ یہ آیت سجدہ کا ترجمہ ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ”فارسی یا کسی اور زبان میں آیت کا ترجمہ پڑھا تو پڑھنے والے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہو گیا، سننے والے نے یہ سمجھا ہو یا نہیں کہ آیت سجدہ کا ترجمہ ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ اسے نامعلوم ہو تو بتادیا گیا ہو کہ یہ آیت سجدہ کا ترجمہ تھا اور آیت پڑھی گئی ہو تو اس کی ضرورت نہیں کہ سننے والے کو آیت سجدہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.