Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کان کٹے جانور کی قربانی کا شرعی حکم؟
- Fatwa no.
- 306-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جانور کے کان پر کٹ لگا ہوا ہو شناخت کے طور پر، تو ایسے جانور کی قربانی ہو سکتی ہے ؟ رہنمائی فرمادیں۔
Answer (beginning)
اگر کان صرف چھ اہوا ہے یا کٹا ہے لیکن کان کی تہائی سے زیادہ نہیں کٹا ہے تو ایسے جانور کی قربانی ہو جائے گی، مگر مکروہ تنزیہی ہے۔ بہارِ شریعت میں ہے: مکان یادم یا چکی تہائی یا اس سے کم کٹی ہو ، تو (قربانی) جائز ہے۔ (بہارِ شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحه 341، مکتبۃ المدینه، کراچی) 66 اس میں ہے : " قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہئے اور تھوڑا سا عیب ہو، تو قربانی ہو جائے گی، مگر مکروہ ہوگی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.