Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیاکبھی کبھی نماز چھوڑنے والا بھی بے نمازی ہوتا ہے

Fatwa no.
304-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو شخص کبھی کبھی نماز چھوڑ دیتا ہو، کبھی چار پڑھی، کبھی پانچ۔ کیا ایسا شخص بھی بے نمازی کہلا تا ہے ؟

Answer (beginning)

لا لا حقیقی نمازی وہی شخص ہے جو وقت کی پابندی کے ساتھ پانچوں نمازیں پڑھتا ہے ، اگر ایک وقت کی نماز بھی قضا کرنے کی عادت ہے تو وہ بے نمازی ہی کہلائے گا۔ اور نماز نہ پڑھنے کی وعید میں یہ شخص بھی شامل ہو گا۔ کبھی پانچ نمازیں پڑھنا اور کبھی چار نمازیں پڑھنا، تو یہ صورت نماز سے غفلت میں بھی شامل ہے۔ چنانچہ اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا: "فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ (٤) الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (3) ترجمہ کنز العرفان: توان نمازیوں کے لئے خرابی ہے ، جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.