Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

لڑکے یا لڑکی کیلئے ایئر ہوسٹ کی ملازمت کرنا کیسا؟

Fatwa no.
133-Web

Question

(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایئر لائن میں لڑکے یالڑکی کا ایئر ہوسٹ کی نوکری کرنا کیسا ؟ اس میں اکثر شراب بھی دینی پڑتی ہے۔

Answer (beginning)

عورت کے لئے ایئر ہوسٹس کی نوکری کرنا مطلقا ہی ناجائز و حرام ہے خواہ شراب نہ بھی پیش کرنی پڑے کیونکہ اس میں بے پردگی اور شرعی سفر (92 کلو میٹر یا اس سے زائد مسافت) محرم یا شوہر کے بغیر کرنا پڑتا ہے اور یہ ناجائز و حرام ہے۔ اور اگر شراب پیش کرنی پڑتی ہو تو لڑ کے لئے بھی ایسی نوکری کرنا حرام ہے۔ وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِيهِ وَسَلَّم Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami) fdaruliftaahlesunnat DaruliftaAhlesunnat feedback@daruliftaahlesunnat.net عاملات اهلسنت www.daruliftaahlesunnat.net Dar-ul-ifta AhleSunnat

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.