Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جان بوجھ کرخود کو دوسری قوم کی طرف منسوب کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 131-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کوئی شخص اپنے آپ کو کسی قوم کی طرف منسوب کرے حالانکہ اس قوم سے اس کا نسبی تعلق نہیں تو اس کے لیے کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
و شخص اپنے آپ کو کسی ایسی قوم کی طرف منسوب کرے، جس قوم سے وہ نہیں ہے تو وہ گنہگار ہے اور حدیث شریف میں ایسے شخص کے لیے جہنم کی وعید ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے : ” انه سمع النبی صلی اللہ تعالی علیه وسلم يقول ليس من رجل ادعى لغير ابيه وهو يعلمه الاكفر ومن ادعى قوماليس له فيهم نسب فليتبوأ مقعدہ من النار “ یعنی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کی طرف منسوب کیا حالانکہ وہ اسے جانتا ہو تو اس نے کفر کیا اور جس نے اپنے آپ کو کسی ایسی قوم کی طرف منسوب کیا کہ جس میں اس کا نسب، نہیں تو وہ اپنا ٹھکانہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.