Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اللہ کو اوپر والا کہنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 129-Web
- Issued
- 23 جمادی الاخرى 1443ھ /25 جنوری 2022ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی معاملے کے بارے میں کسی شخص سے پوچھا جائے اور وہ یہ کہے کہ اوپر والے کی جیسے مرضی ہو گی وہ ہوگا۔“ ایسا جملہ بولنا کیسا ہے ؟
Answer (beginning)
اللہ پاک کیلئے اوپر والا لفظ بولنا کفر ہے۔ کہنے والے کو اس سے توبہ کر نالازم ہو گا اور تجدید ایمان و تجدید نکاح کا بھی حکم دیا جائے گا۔ البتہ اگر اوپر والا“ سے مراد بلندی اور برتری کا معنی ہو تو پھر اگرچہ یہ کفر نہیں ہو گا مگر یہ جملہ برا ہی ہو گا اور کہنے والے کو اس سے روکا جائے گا۔ امیر اہلسنت ابو بلال علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتھم العالیہ ارشاد فرماتے ہیں : اللہ تبارک و تعالٰی کی ذات کے لئے لفظ " و پر والا بولنا نفر ہے کہ اس لفظ سے اس کیلئے جہت ( یعنی سمت کا ثبوت ہوتا ہے اور اسکی ذات " جہت (سنت) سے پاک ہے جیسا کہ حضرت علامہ سعد الدین تفتازانی علیہ رحمہ اللہ الوالی فرماتے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.