Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں پیچھے سے دونوں ہاتھوں سے کپڑا چھڑانا کیسا؟

Fatwa no.
128-Web :
Issued
21 رجب المرجب 1443ھ /23 فروری 2022ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نماز میں دونوں ہاتھوں سے پیچھے سے کپڑا چھڑا سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer (beginning)

رکوع سے اٹھنے کے بعد یا سجدہ سے قیام کی طرف آنے کے بعد کبھی کبھار کپڑا جسم سے چپک جاتا ہے تو اسے عمل قلیل کے ذریعہ چھڑانے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ عمل مفید ہے اور ایک ہاتھ سے بآسانی ہو سکتا ہے۔ اس لئے اس میں دونوں ہاتھوں کا استعمال نہ کیا جائے کہ ضرورت ایک ہاتھ سے بھی پوری ہو جاتی ہے۔ اس موقع پر دوسرے ہاتھ کو بھی استعمال کرنا بے فائد ہ ہو گا اور نماز میں عمل قلیل غیر مفید کا ارتکاب کرنا مکروہ تنزیہی ہے یعنی نماز ہو جائے گی، اعادہ بھی لازم نہیں ہوگا، مگر نا پسندیدہ ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.