Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ناپاک پانی کو گارے ،سیمنٹ بنانے میں استعمال کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 127-Web
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا نا پاک پانی کو نا پاک حالت ہی میں کسی عمارت کی تعمیرات کے دوران سیمنٹ بناتے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے؟
Answer (beginning)
نجس پانی کو گارے، سیمنٹ بنانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے تیار شدہ سیمنٹ یا گارے کو مسجد کی تعمیر میں استعمال کرنا، جائز نہیں۔ نوٹ : استعمال کرنے میں یہ احتیاط بھی رہے کہ اپنے یاد دیگر لوگوں کے کپڑوں پر چھینٹیں نہ پڑیں۔ بہار شریعت میں ہے : " نجاست نے پانی کا مزہ بورنگ بدل دیا تو اس کو اپنے استعمال میں بھی لانا، نا جائز اور جانوروں کو پلانا بھی۔ گارے وغیرہ کے کام لا سکتے ہیں مگر اس گارے مٹی کو مسجد کی دیوار وغیرہ میں صرف کرنا جائز نہیں“۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.