Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
ٹھیکے والی زمین کا عشر کس پر فرض ہوگا؟
- Fatwa no.
- 117-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ پیسوں کے عوض ٹھیکے پر لی گئی زمین کا عشر کس پر لازم ہے؟
Answer (beginning)
جو زمین پیسوں کے عوض ٹھیکے پر دی گئی اگر اس میں عشر کی فرضیت کے شرائط پائے جائیں تو اس کے عشر کی ادائیگی کاشتکار پر لازم ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ”زمین جو زراعت کے لیے نقدی پر دی جاتی ہے امام کے نزدیک اس کا عشر زمیندار پر ہے اور صاحبین کے نزدیک کاشتکار پر اور علامہ شامی نے یہ تحقیق فرمائی کہ حالت زمانہ کے اعتبار سے اب قول صاحبین پر عمل۔ ہے 66 “۔(بہار شریعت،جلد:1،صفحه:921،مطبوعه مكتبةالمدينه) وَاللهُ أَعْلَمُ عَزَوَجَكَ وَرَسُولُهُ أَعْلَم صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّم Dar-ul-Ifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami) www.doruliftaohlesunnat.net Dar-ul-Ifta AhleSunnat f…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.