Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوۃ کی ادائیگی قسطوں میں کرنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 107-Web
- Issued
- 03 جمادی الثانی 1443ھ / 07 جنوری 2022
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا میں دو یا اس سے زیادہ قسطوں میں زکوۃ دے سکتا ہوں ؟
Answer (beginning)
جب اموال زکوۃ پر سال پورا ہو جائے تو فی الفور مکمل زکوۃ کی ادئیگی فرض ہے، کل یا بعض زکوۃ کی ادئیگی میں تاخیر کرنا، جائز نہیں۔ ہاں اگر سال مکمل نہیں ہوا اور آپ تھوڑی تھوڑی کر کے ایڈوانس زکوۃ ادا کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کرنا، جائز ہے البتہ جب سال مکمل ہو جائے تو اس وقت حساب لگائیں، جتنی زکوۃ بنتی تھی اگر اتنی ہی ادا کر دی ہے تو ٹھیک ورنہ جتنی باقی ہے اسے بلا تاخیر فورا ادا کر دیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.