Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جان بوجھ کر رکوع و سجود میں تسبیح نہ پڑھنے کا حکم؟
- Fatwa no.
- 98-Web:
- Issued
- 25 جمادی الاولی 1443ھ / 30 دسمبر 2021ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی جان بوجھ کر رکوع و سجود میں تسبیح نہ پڑھے تو کیا نماز ہوگی یا نہیں ؟
Answer (beginning)
رکوع و سجود میں تین بار تسبیح پڑھنا سنت ہے اور جان بوجھ کر تین بار سے کم تسبیح پڑھنایا بالکل نہ پڑھنا، مکر وہ تنزیہی ہے ، یادر ہے نماز کی سنت ترک کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور سجدہ سہو بھی واجب نہیں ہوتا لہذا جس شخص نے جان بوجھ کر رکوع و سجود میں تسبیح نہیں پڑھی اُس کی نماز ہو گئی لیکن سنت ترک کرنے کی وجہ سے نماز خلاف سنت ہوئی۔ ردالمحتار میں رکوع و سجود کی تسبیح کے متعلق ہے: ” و یسبح فيه وقاله ثلاثا فلوتر که او نقصه کره تنزیها“ یعنی رکوع اور سجدے میں تسبیح کہنا سنت ہے اور اگر وہ اس تسبیح کو ترک کرے یا تین سے کم پڑھے تو یہ مکروہ تنزیہی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.