Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا عقیقہ ساتویں دن ضروری ہے یا پہلے کر سکتے ہیں؟
- Fatwa no.
- 92-Web
Question
(دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا ساتویں دن ہی عقیقہ کیا جائے یا اس سے پہلے بھی کر سکتے ہیں؟ کیا دو یا تین دنوں میں عقیقہ کرنے میں کوئی شرعی ممانعت ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
بہتر یہ ہے کہ بچے کی ولادت کے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے ، ولادت کے دو یا تین دن بعد کرنا یا ساتویں دن کے بعد کرنا بھی جائز ہے۔ فتاوی تنقیح الحامد یہ میں ہے: ”ولو قدم يوم الذبح قبل يوم السابع اواخره عنه جاز الا ان يوم السابع افضل اگر ساتویں دن سے پہلے ہی عقیقہ کا جانور ذبح کر دیا یا ساتویں دن کے بعد کیا تو بھی جائز ہے لیکن ساتویں دن کرنا افضل ہے۔ (فتاوی تنقیح الحامدية، جلد 2، صفحہ233، مطبوعہ کوئٹہ) بہار شریعت میں ہے : ”عقیقہ کے لیے ساتواں دن بہتر ہے اور ساتویں دن نہ کر سکیں تو جب چاہیں کر سکتے ہیں، سنت ادا ہو جائے گی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.