Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں کب بسم اللہ پڑھی جائے اور کب نہ پڑھی جائے

Fatwa no.
87-Web
Issued
05 جمادی الاولی 1443ھ / 10 دسمبر 2021ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جب بندہ نماز پڑھ رہا ہو ، تو جس رکعت میں سورت پڑھنی ہوتی ہے، کیا سورت سے پہلے

Answer (beginning)

امام ہو یا منفر د ( تنہا نماز پڑھنے والا) دونوں کے لئے تمام رکعتوں میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مسنون یعنی سنت ہے اور سورہ فاتحہ کے بعد اگر سورت شروع سے پڑھنی ہو تو بسم اللہ پڑھنا مستحسن ہے۔ البتہ مقتدی پر چونکہ قراءت نہیں اور بسم اللہ قراءت کے تابع ہے لہذا مقتدی امام کے پیچھے بسم اللہ نہیں پڑھے گا۔ بہار شریعت میں ہے: ” تعوذ صرف پہلی رکعت میں ہے اور تسمیہ ہر رکعت کے اول میں مسنون ہے۔ فاتحہ کے بعد اگر اول سورت شروع کی تو سورت پڑھتے وقت بسم اللہ پڑھنا مستحسن ہے، قراءت خواہ سری ہو یا جہری، مگر بسم اللہ بہر حال آہستہ پڑھی جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.