Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگرمچھلی ذبح کی اور بسم اللہ نہ پڑھی تو کیا حکم ہوگا؟
- Fatwa no.
- 81-Web
- Issued
- 03 جمادی الاولی 1443ھ / 08 دسمبر 2021 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مچھلی کو اگر ذبح کیا جائے اور
Answer (beginning)
مچھلی کا بغیر ذبح کے حلال ہو نا حدیث پاک سے ثابت ہے، نیز بکری، گائے وغیرہ حلال جانور کو ، دم مسفوح یعنی بہنے کی صلاحیت رکھنے والے خون کے نکالنے کے لیے ذبح کیا جاتا ہے جبکہ مچھلی میں دم مسفوح ہی نہیں ہوتا اس لیے مچھلی کو ذبح کرنے کی حاجت نہیں ، ذبح کیے بغیر بھی مچھلی حلال ہے، اس لیے مچھلی کاٹتے ہوئے اگر کسی نے بسم اللہ نہیں پڑھی تب بھی وہ حلال ہی ہے۔ سنن ابن ماجہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "احلت لناميتتان و دمان الميتتان الحوت والجراد والدمان الكبد والطحال “ ترجمہ : ہمارے لئے دو مرے ہوئے جانور اور دو خون حلال ہیں: دو…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.