Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بڑے جانور میں عقیقہ کا حکم؟

Fatwa no.
71-Web

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بڑے جانور جیسے گائے یا بھینس میں عقیقہ کا حصہ شامل کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟

Answer (beginning)

بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ شامل کرنا جائز ہے۔ حاشیۃ الطحطاوی میں ہے: ”ولوارادوا القربة الأضحية أو غيرها من القرب اجزأهم سواء كانت القربة واجبة أو تطوعا أو وجب على البعض دون البعض وسواء إتفقت جهة القربة أو إختلفت۔۔۔ كذلك إن أراد بعضهم العقيقة عن ولد ولدله من قبله - ملتقطاً۔ “ یعنی ایک جانور میں شریک لوگوں نے ( اس جانور میں) قربانی کی قربت کی نیت کی ہو یا قربانی کے علاوہ کسی اور قربت کی نیت ہو، تو یہ نیت کرنا ان کو کافی ہو جائے گا۔ چاہے وہ قربت واجبہ ہو یا نفلی قربت ہو یا بعض پر واجب ہو اور بعض پر واجب نہ ہو ، چاہے قربت کی جہت ایک ہی ہو یا مختلف ہو ۔۔۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.