Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دانتوں میں کھانے کے ذرات ہونے کی حالت میں نماز پڑھنا
- Fatwa no.
- 65-Web
- Issued
- 05 رجب المرجب 1442ھ / 18 فروری 2021ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ دانتوں میں کھانے کے ذرات پھنسے ہونے کی حالت میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
Answer (beginning)
دانتوں میں کھانے کے ذرات پھنسے ہونے کی صورت میں نماز ہو جاتی ہے لیکن یادر ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے اگر کھانے کے اجزاء منہ میں ہوں تو اس سے فرشتوں کو سخت تکلیف ہوتی ہے لہذا کھانا کھانے کے بعد مسواک یا خلال کرنے کی عادت بنانی چاہئے تا کہ منہ ذرات سے صاف ہو جائے۔ یہ مسئلہ بھی ذہن میں رہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے دانتوں میں کوئی چیز موجود ہو اور اسے نماز کے دوران نگل گیا تو اگر وہ چیز چنے سے کم تھی تو نماز مکروہ ہو گی اور اگر چنے کے برابر یا اس سے زائد تھی تو نماز ٹوٹ جائے گی۔ فتاوی رضویہ میں ہے: ” یہ کامل تصفیہ (یعنی مکمل صفائی) بھی بہت مؤکد ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.