Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں خیال کسی اور جگہ چلا جائے اور رکعتوں کی تعداد میں شک ہو تو کیا کریں؟
- Fatwa no.
- 64-Web
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نماز میں خیال کسی اور جگہ چلا جائے اور یاد نہیں رہا کہ کتنی رکعتیں پڑھ لیں تو وہ کیا کرے؟
Answer (beginning)
اگر بالغ ہونے کے بعد رکعتوں کی تعداد میں ایسا شک پہلی مرتبہ ہوا تو نماز توڑ کر نئے سرے سے پڑھے یا جس طرف غالب گمان ہو تو اس پر عمل کر کے پڑھ لے مگر پھر بھی یہ نماز نئے سرے سے پڑھنی ہو گی اور اگر ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا، اس سے پہلے بھی ایسی بھول ہو چکی ہو تو اب اگر اسے کسی طرف غالب گمان ہو تو اسی پر عمل کرے، مثلاً رکعتوں کے دو یا تین ہونے میں شک ہے اور غالب گمان ہے کہ تین پڑھ چکا تو تین ہی سمجھے اور اس صورت میں سجدہ سہو کی بھی حاجت نہیں ہے جبکہ سوچنے میں ایک رکن کی مقدار وقفہ نہ ہوا ہو ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.