Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ہمارے ہاتھ میں کوئی بخت نہیں کہنا کیسا؟

Answered by
مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
2631-Web
Issued
09 جمادی الاخریٰ 1447ھ /01دسمبر 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم یہ کہنا کیسا کہ ہمارے ہاتھ میں کوئی بخت نہیں لکھا اور ہم آزمائش کے لئے پیدا ہوئے ہیں ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ہمارے ہاتھ میں کوئی بخت لکھا ہی نہیں ، ہم لوگ آزمائش کے لئے پیدا ہوئے ہیں ۔ کسی نے یہ کہا، تو کیا اس پر حکم کفر ہوگا اگر نیت تقسیم باری تعالیٰ پر اعتراض کی ہو ؟ اگر ویسے ہی کہا ہو ، تو کیا حکم ہوگا؟ جواب ضروری نہیں کہ ایسا کہنے والا تقسیم الی پر اعتراض کی نیت سے کہے بلکہ اس میں صحیح بھی پہلو موجودہیں مثلاً یہ مراد ہوکہ ہاتھ دیکھ کر قمت کا فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ شریعت اسلامیہ اس سے روکتی ہے اور اس پر اعتقاد جائز نہیں بلکہ اگر کاہن کی بات پر اعتقاد…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.