Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

W 14415 Mayyat Ke Maal Se Pehle Fidiya Diya Jayega Ya Wirasat

Answered by
مولانا رضا محمد عطاری مدنی
Fatwa no.
2663-Web دام الافيا اهلسنت
Issued
06 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 28 نومبر 2025ء

Answer (beginning)

بسم الله الرحمن الرحيم فوت ہونے والے کا مال پہلے ورثا میں تقسیم ہوگا یا پہلے اس کی نماز، روزوں کا فدیہ دیا جائے گا ؟ سوال دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) فوت ہونے والے نے جو مال چھوڑا اس پورے مال میں وراثت جاری ہوگی یا پہلے اس کی نماز اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جائے پھر جو بچے وہ ورثا میں تقسیم کیا جائے ؟ جواب میت کے مال سے سب سے پہلے میت کے کفن، دفن کے معاملات کرنا اور پھر اس کے ذمہ قرض ہو تواس کی ادائیگی کرنا اور پھر اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو شرعی حدود میں رہتے ہوئے اس وصیت کو پورا کرنا ہو تا ہے اور اس کے بعد جو بچے وہ ورثا میں تقسیم ہوتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.