Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
W 14413 Amanat Ki Raqam Istemal Karna Kaisa
- Answered by
- مولانا رضا محمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2661-Web
- Issued
- 27 جمادی الاولی 1447ھ / 19 نومبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم امانت رکھی ہوئی رقم اپنے استعمال میں لانے کا حکم ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی کے پاس امانت کے طور پر کسی نے رقم رکھوائی ہو، تو کیا یہ شخص اپنے کام میں وہ رقم استعمال کر سکتا ہے جبکہ نیت یہ ہو کہ تنخواہ ملنے پر واپس اس میں رقم رکھ دے گا ۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے ؟ جواب اگر کسی نے اپنے پیسے بطور امانت رکھوائے ہیں، تو جس کے پاس رکھوائے ہیں اس کو مالک کی اجازت کے بغیر پیسے استعمال کرنا قطعاً جائزہ نہیں ،اگر اس کی اجازت کے بغیر رقم استعمال کرے گا توامانت میں خیانت کرنے والا اور گناہگار ہوگا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.