Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غسل کے فرائض ایک بار ادا کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
Fatwa no.
2442-Web
Issued
07 ربیع الاول 1447ھ / 01 ستمبر 2025ء علم الافتاء اهلسنت

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم غسل کے فرائض ایک ایک بار ادا کئے ، تو کیا غسل ہو جائے گا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی غسل میں ایک بار کلی کرے ، ایک بار ناک میں پانی چڑھائے اور ایک بار پورے جسم پر پانی بہائے ، تو کیا غسل ہو جائے گا یا تین بار کرنا ضروری ہے ؟ جواب غسل کے تین فرائض ہیں : (1) کلی کرنا۔ کہ منہ کے ہر پرزے گوشے ہونٹ سے خلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہ جائے ۔ (2) ناک میں پانی چڑھانا ۔ دونوں نتھنوں کا جہاں تک نرم حصہ ہے دھلنا کہ پانی کو سونگھ کر اوپر چڑھائے (3) تمام ظاہر بدن یعنی سر کے بالوں سے پاؤں کے تلوؤں تک جسم کے ہر پرزے ہر رونگٹے پر پانی بہ جانا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

Appears in topics

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.