Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وضو کے قطرے کپڑوں پر لگنے کا حکم

Answered by
مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
Fatwa no.
2441-Web
Issued
07 ربیع الاول 1447ھ / 01 ستمبر 2025ء

Answer (beginning)

بسم الله الرحمن الرحيم دوسرے کے بدن سے ٹپک کر پانی کے قطرے اپنے کپڑوں پر لگے ، تو کیا کپڑے ناپاک ہوں سوال گے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص وضو کرنے کے بعد ہاتھ جھٹکے جس سے قطر سے اڑ کر میرے کپڑوں اور پاؤں پر لگیں، تو کیا نماز کے لئے مجھے پاؤں دھونے ہوں گے اور کپڑے تبدیل کرنے ہوں گے ؟ جواب مذکورہ قطر سے ناپاک نہیں لہذا آپ کے پاؤں اور کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے ، ان کپڑوں میں پڑھی گئی نماز بھی ہو جائے گی ۔ البتہ مسجد میں وضو کے پانی کے قطرے ٹپکانے کی اجازت نہیں ، اس معاملہ میں احتیاط لازم ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.