Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مقتدی کا قعدہ اولیٰ میں مکمل تشہد نہ پڑھنے کا حکم
- Answered by
- مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2440-Web
- Issued
- 17 صفر المظفر 1447 / 12 اگست 2025
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم کسی مقتدی نے قعدہ اولیٰ میں تشہد مکمل نہیں پڑھی، تو کیا حکم ہے؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر مقتدی قعدہ اولیٰ میں تشہد مکمل نہ پڑھے ، تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟ جواب اگر مقتدی نے بھولے سے تشہد میں سے کچھ حصہ چھوڑ دیا یا تشہد پڑھا ہی نہیں اور امام کے ساتھ کھڑا ہوگیا، تو اس کی نماز ہو جائے گی کہ اگر مقتدی امام کے پیچھے کوئی واجب بھولے سے چھوڑتا ہے ، تو اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا اور اس کی نماز درست ہو جاتی ہے ، البتہ اگر یہ کام مقندی قصداً یعنی جان بوجھ کر کرے گا، تو اب جان بوجھ کر واجب چھوڑ دینے کی وجہ سے اس پر اس نماز کا لوٹانا واجب ہو گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.