Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کفریہ کلمہ بے دھیانی میں نکلنے کا حکم

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم کفریہ کلمہ بے دھیانی میں منہ سے نکل گیا، تو کیا حکم ہو گا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کو پتہ ہو کہ یہ کفریہ کلمہ ہے اور بے دھیانی میں منہ سے نکل جائے ، تو اس کا کیا حکم ہو گا ؟ اور کسی ڈرامے میں کفریہ کلمہ سننے سے بھی کا فر ہو جاتے ہیں ؟ جواب اگر کسی شخص کی زبان سے واقعی غلطی سے کلمہ کفر نکل جائے یعنی کہنا کچھ چاہتا تھا لیکن زبان سے ایسی بات یا لفظ نکل گیا جو کفر ہے اور اس کلام سے نفرت و بیزاری کا اظہار بھی کرے کہ سننے والوں کو معلوم ہو جائے کہ غلطی سے یہ لفظ نکلا ہے تو ایسا شخص کافر تو نہیں ہو گا لیکن اسے اس سے توبہ و استغفار کرنے کا حکم دیا جائے گا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.