Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نام عبدالصبور ہو تو اسے صرف "صبور" کہنا کیسا؟ شرعی حکم

Answered by
مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
Fatwa no.
2605-Web
Issued
23 جمادی الاولی 1447ھ /15 نومبر 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم جس کا نام عبدالصبور ہو اس کو صرف صبور "کہنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس کا نام "عبدالصبور ہو، کیا اسے "صبور کہہ سکتے ہیں ؟ جواب "الصبور " اللہ عزوجل کا صفاتی نام ہے ، جس کا معنی ہے : "وہ جو گنہگاروں کو عذاب دینے میں جلدی نہیں فرماتا ۔ “اور ”عبد“ کا معنی ہے : بندہ ۔ لہذا عبد الصبور نام رکھنا جائز ہے ۔ جس کا نام عبد الصبور ہوا سے عبد الصبور کہہ کر ہی پکارا جائے ، البتہ اگر اسے صرف صہو کہ دیا تو بھی گناہ نہیں کیونکہ یہ وہ نام نہیں جو اللہ عزوجل کے لئے ہی خاص ہو، بلکہ اس کا اطلاق بندوں پر بھی ہوسکتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.