Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نومولود کے کان میں اذان کب دی جائے نیز اس میں تاخیر کرنا کیسا؟

Answered by
مولانا رضا محمد مدنی
Fatwa no.
2591-Web
Issued
19 جمادی الاولی 1447ھ /11 نومبر 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم بچہ پیدا ہونے کے بعد اذان کب دی جائے ؟ دار الافتاء المسنت (دعوت اسلامی) بچہ پیدا ہونے کے بعد اذان کب دینی چاہیے ؟ جواب بچے کی پیدائش کے بعد سب سے پہلے اسے نہلا کر اس کے سیدھے کان میں اذان اور الٹے کان اقامت کہہ دینی چاہیے ۔ اذان دینے میں بلاوجہ تاخیر نہ کی جائے کہ تاخیر کی صورت میں اس کے مرگی جیسے مرض میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے ۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "بچہ پیدا ہونے کے بعد جو اذان میں دیر کی جاتی ہے اس سے اکثر یہ مرض ( مرگی) ہو جاتا ہے، اگر بچہ ہونے کے بعد پہلا کام یہ کیا جائے کہ نہلا کر اذان و اقامت بچہ کے کان میں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.