Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
لڑکی کا نام مہر ماہ رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
- Answered by
- مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2623-Web
- Issued
- 19 جمادی الاولی 1447ھ /11 نومبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال سم الله الرحمن الرحيم لڑکی کا نام "مہر ماہ " رکھنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا لڑکی کا نام "مہر ماہ " رکھ سکتے ہیں ؟ جواب مہر ماہ نام رکھنا جائز ہے ، البتہ ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان بزرگ ہستیوں کی برکت بچی کے شامل حال ہوگی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.