Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

امام کے سجدہ تلاوت پر مقتدی کیلئے حکم

Answered by
مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
Fatwa no.
2582-Web
Issued
11 جمادی الاولی 1447ھ /03 نومبر 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم امام نے آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کیا، تو کیا یہ سجدہ مقتدی کے لئے کافی ہوگا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر امام نے آیت سجدہ پڑھی اور امام سجدے میں چلا گیا تو مقتدی بھی سجدے میں جائیں یا امام کا سجدہ کافی ہے ؟ جواب پوچھی گئی صورت میں مقتدیوں پر بھی سجدہ تلاوت ادا کرنا واجب ہے لہذاوہ بھی امام کے ساتھ سجدہ تلاوت کریں گے ۔ بہار شریعت میں ہے : "نماز میں امام نے آیت پڑھی تو مقتدیوں پر واجب ہوگیا ، اگر چہ نہ سن ہو بلکہ اگرچہ آیت پڑھتے وقت وہ موجود بھی نہ تھا، بعد پڑھنے کے سجدہ سے پیشتر شامل ہوا اور اگر امام سے آیت سنی مگر امام کے سجدہ کرنے کے بعد اسی رکعت میں شامل ہوا…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.