Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

دمام سے مدینہ جاتے ہوئے احرام باندھنے کا حکم

Answered by
مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
Fatwa no.
2600-Web
Issued
25 جمادی الاولی 1447ھ / 17 نومبر 2025ء

Answer (beginning)

سوال بسم الله الرحمن الرحيم کیا دمام سے مدینہ جاتے ہوئے احرام باندھنا لازم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک شخص دمام میں رہتا ہے اور وہ کسی کام کے لیے مدینے شریف حاضری دینا چاہتا ہے اور وہیں سے واپس اپنے شہر آنا چاہتا ہے ، اس نے مکہ شریف نہیں جانا ، تو کیا وہ بغیر احرام کے مدینہ شریف جاسکتا ہے ؟ جواب مدینہ شریف حرم ملکہ بلکہ میقات سے بھی باہر ہے ، یونہی دمام بھی میقات سے باہر ہے اور احرام تب لازم ہوتا ہے جبکہ میقات کے باہر سے کوئی شخص حرم مکہ جا رہا ہو لیکن جب حرم شریف نہیں جانا ، تو احرام کی ضرورت نہیں اور مدینے شریف حاضر ہونے والے پر یہ بھی واجب نہیں کہ وہ مکہ پاک بھی جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.