Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
رضاعی خالہ سے نکاح کرنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا فرحان احمد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2580-Web
- Issued
- 11 جمادی الاولی 1447 / 03 نومبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم جس عورت کا دودھ پیا اس کی سگی بہن سے شادی کرنے کا حکم دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جس عورت کا دودھ پیا ، کیا اس کی بہن سے شادی کرنا جائز ہے ؟ جواب مدت رضاعت میں جس عورت کا دودھ پیا اس کی بہن دودھ پینے والے کے لئے رضاعی خالہ ہے اور اور جس طرح سگی خالہ سے نکاح حرام ہے اسی طرح رضاعی خالہ سے بھی حرام ہے کہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہو جاتے ہیں، لہذا دودھ پلانے والی عورت کی بہن سے دودھ پینے والے کا نکاح نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا : " وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَة “ ترجمہ کنز الایمان : (حرام ہوئیں تم پر) دودھ کی بہنیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.