Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پیپر میں استاد کا خود نقل کروانا کیسا؟
- Answered by
- مولانا فرحان احمد عطار می مدنی
- Fatwa no.
- 2578-Web
- Issued
- 07 جمادی الاولی 1447 ه / 30 اکتوبر 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم پیپر زمیں اگر استاد خود نقل کروائے ، تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) پیپر زمیں نقل کرنا حرام ہے کہ اس میں اپنے استاد کو دھوکہ دینا ہے جو وہاں امتحانی مرکز میں کھڑا ہے ، لیکن جب استاد ہی خود نقل کروائے یا نقل کرنے کی اجازت دے اور رشوت بھی نہ لے ، تو کیا حکم ہے؟ جواب امتحانی عملہ خود اس بات کا پابند ہو تا ہے کہ وہ نقل نہ کرنے دے ۔ اس کے باوجود نقل کرنے کی اجازت دینا خود امتحانی عملے کے لئے بھی جائز نہیں اور یہ ناجائز کام بغیر رشوت بھی ناجائز ہے، رشوت دے کر کرنے یا کروانے میں اس کا حکم اور سخت ہوگا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.