Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طواف یا سعی میں میاں بیوی کا ہاتھ پکڑ کر چلنا کیسا؟
- Answered by
- مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 2608-Web
- Issued
- 27 جمادی الاولی 1447ھ /19 نومبر 2025ء
Answer (beginning)
سوال بسم الله الرحمن الرحيم سعی یا طواف کے دوران میاں بیوی کا ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ کر چلنا کیسا ؟ دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) آج کل دیکھا جاتا ہے صفا اور مروہ کے درمیان چکر لگاتے یا طواف کرتے بیوی اور شوہر نے ایک دوسرے کا ہاتھ یا کندھا پکڑا ہوتا ہے تو کیا احرام کی حالت میں یہ جائز ہے ؟ جواب میاں بیوی کو بھی حالت احرام میں بلا حائل ہاتھ میں ہاتھ ڈالے طواف وسعی وغیرہ سے بچنا چاہئے کیونکہ اگر شہوت آگئی اور اس کیساتھ چھونا پایا گیا تو دم واجب ہو جائے گا ، ہاں بلا شہوت چھونے میں کوئی کفارہ نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.